Loading…
Loading…
Yusuf · Ayah 66 of 111
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ۚ فَلَمَّآ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ
He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،